اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کی جانب سے ۲ روزہ تربیتی ورکشاپ کا سکرنڈ میں انعقاد کیا گیا، جس میں مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی، حجتہ السلام مولانا کریم بخش کریمی، قاری قرآن امتیاز حسین، مولانا امداد علی نسیمی، مرکزی صدر اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان ثابت علی ساجدی، سید شکیل حسینی و دیگر نے خطاب کیا۔ ورکشاپ میں تنظیمی کارکنان نے ۱۴۰ کے قریب شرکت کی، تفصیلات کے مطابق اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کی جانب سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ ۸،۹ جولائی کوسکرنڈ سٹی میں منعقد کیا گیا، پروگرام کا آغاز نماز مغربین سے ہوا، باجماعت نماز کے بعد پروگرام تلاوت کلام پاک، حمد، نعت، قصیدہ، انقلابی ترانے سے کیا گیا، افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے، مولانا امداد خلیلی نے کہا کہ تعلیم و تربیت ہماری تنظیم کا اہم جز ہے جس کی خاطر تربیت ورکشاپ کا انقعاد کیا گیا ہے، اس وقت ملت کی علمی سطح بلند ہو رہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ تنظیمی ممبران بھی تربیتی ورکشاپ سے استفادہ حاصل کرکے معاشرے کی تربیت میں اہم کردار ادا کریں۔
پروگرام کی اہمیت پہ خطاب کرتے ہوئے اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان کے مرکزی صدر ثابت علی ساجدی نے کہا کہ اصغریہ مکتب اہلبیت کے نظریات اور فکر کو عام کرنے میں مشغول ہے، ایک مقدس تنظیم کے افراد کا تربیتی یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے ، اس وقت تربیت کی اشد ضرورت ہے، ہم اپنے کارکنان کی تربیت کے پیاس کو بجھانے کرنے کے لیئے ورکشاپ کا انعقاد کرتے رہینگے، امید ہے کہ یہ ورکشاپ ہماری تربیت میں اہم کردار ادا کریگی، ورکشاپ سے مضوعاتی درس دیتے ہوئے حجت السلام مولانا کریم بخش کریمی نے کہا کہ مکتب اھلیبیت علیھم السلام باشعور اور اھل علم کا مکتب ہے، جس میں بے عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اھل علم کے لیئے لازم ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیئے آگے بڑھیں، اس تربیت سے معاشرے کی بہتری کا انتظام ہوتا ہے۔
مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی نے صدارت خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں منظم تبلیغ سے دین مبین کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے، اسلام سادگی اور تکالیف کے بعد مضبوط ہوا ہے، اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں آئین زندگی موجود ہے، تربیتی عمل انسان کو بندگی کا ہنر سیکھاتا ہے،ورکشاپ میں قاری قرآن امتیاز حسین نے قرآن کی قرئت اور تجوید پہ بہترین عملی مشق کروائی، ورکشاپ میں اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قمر عباس جتوئی نے شرکت کی،پروگرام میں گروپ دیسکیشنس کے بھی سیشن کیئے گئے۔












۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲